نئی دہلی،4؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)ملک میں کورونا کی تیسری لہر نے دستک دے دی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کورونا کا نیا ویری ینٹ اومیکرون ہے۔ کووڈ ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر این کے اروڑہ نے اس کی تصدیق کی ہے۔نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اروڑہ نے کہا کہ ملک میں اومیکرون کا پہلا کیس گزشتہ سال دسمبر کے پہلے ہفتے میں پایا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ تیزی سے پھیل گیا۔ اومیکرون کے کیس آج (چند کو چھوڑ کر)تقریباً تمام ریاستوں میں موجود ہیں۔سب سے بڑی تشویش دہلی، ممبئی اور کولکتہ جیسے میٹرو کے بارے میں ہے، جہاں ایک ہی مہینے میں نئی قسم کے کیسوں میں تیزی آئی ہے۔ ان شہروں میں اومیکرون کے کل کیسوں میں سے75فیصدمتاثر پائے گئے ہیں۔اومیکرون کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں کورونا کیس بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں تیسری لہر کی دستک کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔واضح رہے کہ ملک کی کل 23 ریاستوں میں اومیکرون کے مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اومیکرون مریضوں کی فہرست میں مہاراشٹر سرفہرست ہے۔ اور دوسرے نمبر پر دہلی۔ مہاراشٹر میں اب تک کل 510 /اور دہلی میں 351 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔کیرلا میں 156، گجرات میں 136، تمل ناڈو میں 121، راجستھان میں 120، تلنگانہ میں 67، کرناٹک میں 64، ہریانہ میں 63، اڈیشہ میں 37، مغربی بنگال میں 20، آندھرا پردیش میں 17، مدھیہ پردیش میں 9، ریاست میں شمالی 8، اتراکھنڈ میں 8، چندی گڑھ میں 3، جموں و کشمیر میں 3، انڈمان اور نکوبار میں 2، گوا میں 1، ہماچل پردیش میں 1، لداخ میں 1، منی پور میں 1 اور پنجاب میں 1 کیس درج کیا گیا ہے۔ کورونا کیسوں کی بات کریں تو وہ بھی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ان میں ایک دن میں 22.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 33,750 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ فعال مریضوں کی تعداد بھی بڑھ کر 145,582 ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10,846 / افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔